۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روپ کا کندن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بس مسکرا کے دیکھا تھا
کھِل اٹھی ساری کائنات مری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روپ کا کندن
منیر انور
مغل پبلشنگ ہاﺅس۔لاہور
جملہ حقوق محفوظ ہیں
زیرِاہتمام: پیس اینڈ ایجوکیشن فاﺅنڈیشن
اس کتاب کی فوٹو کاپی،سکینگ کسی بھی قسم کی اشاعت
شاعر/مغل پبلشنگ کی تحریری اجازت کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔
قانونی مشیر: ظہیر حسین ظہور لاہور ہائی کورٹ
نام کتاب : روپ کا کندن
شاعر : منیر انور
ٹائٹل : علی گرافکس
تاریخ اشاعت: 2013 ئ
قیمت : 250روپے
ناشر : فوزیہ مغل
اہتمامِ اشاعت:عظیم بلند
مغل پبلشنگ ہاﺅس،لاہور
736۔یاسر بلاک نشتر کالونی فیروز پور روڈ ،لاہور
03004683760
E-mail: fozia_mughal22@yahoo.com
انتساب!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وہ کہتی تھی ”پاپا آپ تھک گئے ہوں گے میں آپ کو کہانی سناتی ہوں !
روپ کا کندن “ اسی محبت ، اسی معصومیت ، اسی چہکار ، سمن منیر کے نام کرتا ہوں جو کہانیاں بُنتی ہوئی ایک حادثے میں خود کہانی بن گئی !
تمہیں یقین تھا ، ہم دوستی نبھا لیں گے
مجھے گمان تھا جس کا وہی ہوا آخر
میں اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا زمانہ تھا
وہ میری کھوج میں نکلا ، بکھر گیا آخر
ترتیب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ پیش لفظ 11
۔۔۔ ”روپ کا کندن“ (سیّد ضیاءالدین نعیم، راولپنڈی) 13
۔۔۔ زندگی کا مری آسان سفر ہو جائے 19
۔۔۔ پیمبر آخری حضرت محمد 21
۔۔۔ ہم کو سہنا ہی پڑا ذات کا دُکھ 22
۔۔۔ مناظر ، شہر، قصبے اجنبی ہیں 24
۔۔۔ ہو چکا زیست کا فیصلہ ، ہو چکا 26
۔۔۔ ہمارے حوصلے گھائل نہیں تھے 27
۔۔۔ ترا مزاج تکبر کا شاخسانہ تھا 28
۔۔۔ زندگی ستاتی ہے 30
۔۔۔ کٹی پتنگ کی مانند ڈولتے ہو تم 32
۔۔۔ حضور! کوئی نہیں ہے ، جناب! کوئی نہیں 34
۔۔۔ خواب ، بس ایک خواب لگتا ہے 36
۔۔۔ ہاں موسمِ بہار بھی باقی نہیں رہا 38
۔۔۔ ہمیں اب آپ سے کہنا نہیں کچھ 39
۔۔۔ ہر قدم ایک نئی چال، بہت مشکل ہے 40
۔۔۔ مقدّر بٹ رہا ہے 41
۔۔۔ رویے سخت ہوتے جا رہے ہیں 43
۔۔۔ وہ تعلق ہی نبھ نہ سکتا تھا 45
۔۔۔ جب بھی ملنے کے زمانے آئے 46
۔۔۔ دیکھ کتنا ترا خیال کیا 47
۔۔۔ ہے مکمل انہی سے ذات مری 49
۔۔۔ ہر ایک زخمِ تمنا بھلا لگا ہم کو 51
۔۔۔ کئے جاتے ہیں جو وعدے پہ وعدہ 52
۔۔۔ غیر جب آپ کا رہبر ہوگا 54
۔۔۔ غم کو خود پر سوار مت کرنا 55
۔۔۔ ان سے تکرار ہوگئی آخر 57
۔۔۔ شناور ڈوب جانا چاہتے ہیں 59
۔۔۔ تحفہ ء دوستی نہیں ملتا 61
۔۔۔ دُکھوں کی رات میں اک یاد کے حوالے سے 62
۔۔۔ تیرے آنچل کو ستاروں سے سجانا چاہوں 64
۔۔۔ اب مری راہ سے ہٹا سپنے 66
۔۔۔ ہمارے ساتھ چلے ، حوصلہ کسی کا نہیں 68
۔۔۔ ”تذبذب“ (نظم) 70
۔۔۔ تھوڑی سی مٹی کی اور دو بوند پانی کی کتاب 71
۔۔۔ بے تکان دعوے ہیں پیار کے رفاقت کے 73
۔۔۔ کہا یہ میں نے کہ اپنی آنکھوں میں خواب رکھنا 75
۔۔۔ کم مائیگی (نظم) 77
۔۔۔ لوگ کتنے اداس ہیں لوگو 78
۔۔۔ نت نئی تہمتیں اٹھاتے ہیں 80
۔۔۔ اج چہرے سے ایک نقاب اٹھایا ہے 82
۔۔۔ وقت وہ بھی رہا ہے محفل پر 84
۔۔۔ کہا اُس نے میں ہوں تنہا اُدھر سارا زمانہ ہے 86
۔۔۔ ”حادثہ“ (نظم) 88
۔۔۔ تجھے دل سے اتارا ہی نہیں تھا 89
۔۔۔ بھول جانے کا حوصلہ تھا مگر 91
۔۔۔ ہوا ہے اُس پہ چاہت کا اثر آہستہ آہستہ 93
۔۔۔ سوچ کی کہکشاں سے باہر تھا 95
۔۔۔ ”کہا تو تھا“ (نظم) 97
۔۔۔ صبح تھے کچھ اور تیور ، اور ہیں کچھ شام میں 98
۔۔۔ یوں نہیں ہے کہ یہیں کوئی نہیں 100
۔۔۔ دائرے سے نکال دے کوئی 102
۔۔۔ ربط باہم بحال کر انور 104
۔۔۔ وصل میں ہجر کی بے رحم بلائیں دے کر 106
۔۔۔ حدیثِ درد کو آخر بیاں تو ہونا تھا 108
۔۔۔ ”مشورہ“ (نظم) 110
۔۔۔ کسی سے بھی نہیں الجھا کریں گے 111
۔۔۔ کوئی جتنا سر مارے 113
۔۔ میں اگر کچھ بھی بولتا یارو 115
۔۔۔ ”گم گشتہ“ (نظم) 117
۔۔۔ تم نے جو بھی کیا کمال تو تھا 118
۔۔۔ ملا تو دے کے جدائی چلا گیا آخر 120
۔۔۔ خول سے اپنے نکل آئیں جناب 122
۔۔۔ وہ خوش ہے اپنا بوجھ مرے سر پہ ڈال کر 124
۔۔۔ ”دائمی روشنی“ (نظم) 126
۔۔۔ پیار کا آخری دیا لے جائے 128
۔۔۔ راستے بند نہ ہونے دیں گے 130
۔۔۔ ”کرب کا موسم“ (نظم) 132
۔۔۔ سنی کسی نے کہاں میرے انتظار کی بات 133
۔۔۔ دل سے دل کا رابطہ بس اسقدر رکھا گیا 135
۔۔۔ ”فہمائش“ (نظم) 137
۔۔۔ تو میرے ساتھ نہ چل ، میرا اعتبار نہ کر 139
۔۔۔ تیرے بام و در پتھر 141
۔۔۔ یہ تو بس آپ کی محبت ہے 143
۔۔۔ حرف کی بے بسی کا کیا 145
۔۔۔ عام سی بات تھی ، فسانہ بنی 147
۔۔۔ آپ سے بات بھی ہوسکتی ہے 149
۔۔۔ یہ نرم لفظوں کا پہرا ہٹا لے ، رہنے دے 151
۔۔۔رخِ صبیح سے مایوسیاں ہٹا دیتا 152
پنجابی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ کدی کدی تے اینج لگدا اے (قطعہ) 153
۔۔۔ جو ہونا ، اوہ جاوے ہو 154
۔۔۔ بیٹھے بیٹھے دھون بھنا لئی 156
۔۔۔ چھڈ ہور ناں ہُن از میشاں پا، ہُن تھک گئے آں 157
۔۔۔ میرے سُفنے ہار گئے نیں 158
11
پیش لفظ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے شعر کب کہنا شروع کیا ۔۔ معلوم نہیں ۔۔ شعری ذوق کب اور کیسے مجھ میں جڑیں پکڑ گیا ۔۔ یہ بھی علم نہیں ۔۔ میں شعر کیوں کہتا ہوں ۔۔ اس پر بھی کبھی غور نہیں کیا ۔۔ شعر بس ہو جاتے ہیں مجھ سے ۔۔ کہیں بہت گہرائی میں کوئی ہلچل ، کوئی تحریک اپنا ظہور شعر کی صورت کرتی ہے ۔۔۔ موزونیت طبع پرور دگار کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک ہے جو اس نے مجھے عطا کر رکھی ہیں ۔۔ اور اس کا شکر ، اس کی باتیں بیان کرنا بندے کی قدرت سے باہر ہے ۔۔
محبت مجھے ورثے میں ملی ہے ۔ مجھے نہیں یاد کہ میرے باپ نے کبھی کسی سے نفرت کی ہو ۔ وہ ایک نفیس ، برد بار اور دوسروں کی مجبوریوں کو سمجھنے والے اعلیٰ ظرف انسان تھے ۔ میری ماںکو اگر کچھ ناپسند تھا تو صرف جھوٹ ۔
میں اپنے ماحول اور اپنے رشتوں سے خوشیاں کشید کرنے کا قائل ہوں ۔ ناگوار روّیے اور تکلیف دہ لہجے یاد رکھنے کی چیزیں ہیں ہی نہیں ۔۔ کسی سے کوئی مسرت حاصل ہوئی تو میں نے اسے یاد رکھا ، اوڑھا ، برتا ، لوٹایا اور تقسیم کیا ۔۔ کوئی دکھ ملا تو میرے اندر کہیں موجود خود کار نظام نے اسے میرے خون میں تحلیل کر دیا ۔۔ مسرت کی دمک ، خون کے ساتھ رگوں میں گردش کرتے ان کہے دکھوں کی مسلسل اور تیز آنچ ہمارا روپ نکھارتی ہے ، کندن کر دیتی ہے۔۔ لفظ اور لہجے میرے محسوسات میں ہیجانی تبدیلیوں کا موجب بنتے ہیں ۔۔ میں نے جو سوچا ، جو سمجھا ، جیسے محسوس کیا ، لکھ دیا۔
کچھ ایسی محبتیں ہیں جن کے بغیر اس کتاب کا شائع ہونا ممکن نہیں تھا۔۔ میں ان پر خلوص چاہتوں اور حوصلہ افزایوں کے لئے شکریہ نہیں کہوں گا کہ یہ مجھے بہت چھوٹا لفظ لگتا ہے ۔
ایک منظر میں کبھی فراموش نہیں کر سکا ۔میں گھر کے لان میں کچھ کام کر رہا ہوں ۔ ایک معصوم سی چڑیا کی چہکار بلند ہوتی ہے ۔
” پاپا آپ تھک گئے ہوں گے ، میں آپ کو کہانی سناتی ہوں “
” روپ کا کندن “ اسی محبت ، اسی معصومیت ، اسی چہکار ، سمن منیر کے نام کرتا ہوں جو کہانیاں بُنتی ہوئی ایک حادثے میں خودکہانی بن گئی ۔۔۔!
منیر انور ۔۔لیاقت پور 10-01-2013
فون: 0333 7471917
muniranwar117@yahoo.com
13
”روپ کا کندن“
دنیا ایک روپ نگر ہے۔ روپ کے رسیا اِس روپ نگر میں روپ بھرتے اور بدلتے رہتے ہیں۔۔ایک ظاہری روپ ہے جو سب کو نظر آتا ہے۔ ایک روپ باطن کا بھی ہوتا ہے جو ہر کَس و ناکس پر نہیں کھلتا۔۔ طویل مدت کی شناسائی انسان کے اندر جھانکنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ منیر انور ، برادر عزیز سید عقیل احمد کا دوست ہونے کے ناطے میرے چھوٹے بھائی کی طرح ہے اور میں اسے تیس پینتیس سال سے جانتا ہوں۔
فرماں بردار فرزند ، پیکر ِ ایثار بھائی ، وفا شناس دوست ، اچھا رفیق حیات اور مشفق والد ہونے کے ساتھ ساتھ وہ صحیح معنوں میں ایک با اصول ، حیران کن حد تک دیانتدار ،اور کمٹ منٹ کو ہر قیمت پر پورا کرنے والا انسان ہے۔۔ را ئے کا بے لاگ اظہار اور کھلے دل سے اعترافِ خطا اس کے تسلیم شدہ اوصاف ہیں۔ پاکستانیت اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اکثر سخنور '' عذرِ مستی '' رکھ کر شاعری میں بہت سی حدود کا خیال کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے لیکن پورے شعوری التزام کے ساتھ منیر انور کی شاعری میں کسی چیز سے اجتناب اگر ملتا ہے تو وہ اللہ رب العزت سے گستاخی اور '' ولگیریٹی '' ہے۔
منیر انور کی اولیں محبت موسیقی ہے۔ اچھی دھنوں اور دلکش آوازوں میں گائی ہوئی غزلوں نے ا ±سے شاعری کی طرف راغب کیا۔۔ خود اس کے بقول ،، اس نے ابتدا میں شاعری پڑھی کم ، سنی بہت زیادہ۔ شاعری سنتے سنتے ہی کسی ساعتِ سعید میں اس پر انکشاف ہوا کہ شعر تو وہ بھی کہہ سکتا ہے۔ باقاعدہ شاگردی اِس باب میں کسی کی اختیار نہیں کی البتّہ جناب شفق حیدرآبادی اور دیگر ادبی ذوق سے متصف دوستوں کے مشوروں کو خوش دلی سے قبول کرنے کا شعار اپنائے رکھا :
ہم کو سہنا ہی پڑا ذات کا دکھ
درد میں ڈوبی ہوئی رات کا دکھ
پتھرو ، آو ¿ ، سہارو ، دیکھو
ایک شیشے سے ملاقات کا دکھ
حلقہءادب لیاقت پور کی نشست میں سنائی ہوئی اس کی یہ غزل مجھے بے طرح چونکانے کا موجب ہوئی۔ جناب شفق حیدرآبادی کی وفات ، پھر افضال انجم اور مرحوم اعجاز خاور کی لاہور منتقلی سے '' حلقہءادب '' بند ہوگیا۔۔۔ مکروہاتِ دنیا نے سب ادب پسند دوستوں کو اس طرح الجھایا کہ ہماری ملا قاتیں ” صحبت غیر میں گاہے ، سر راہے گاہے“ کی نوبت تک رہ گئیں۔
منیر انور ایک اچھا بزنس مین بنا۔ بزنس کے حوالے سے دو ایک بار بیرون ملک بھی ہو آیا۔ اِس نوعیت کی غیر شاعرانہ مصروفیات کی تاب اس کی شاعری نہ لاسکی۔یہ نہیں معلوم کہ شاعری کی دیوی منیر انور سے روٹھی یا منیر انور نے اس سے منہ موڑا۔ بہر حال'' ماندگی '' کا ایک برسوں پر محیط وقفہ آیا جس میں وہ دکھائی بھی دیا اور سنائی بھی۔ مگرادبی رہگزار سے کوسوں پرے یوں جیسے کبھی وہ اس راہ کا مسافر تھا ہی نہیں۔
کمپیوٹر متعارف ہوا تو اپنی غزلوں کی مشینی کتابت کے لیے میں نے مارکیٹ پر نظر دوڑائی۔ معلوم ہواکہ دوائے دل کی دوکان تو ہمارا عزیز۔ منیر انور بھی کھولے بیٹھا ہے۔یوں میں اور مستقیم نوشاہی اس کے پاس جا پہنچے۔ ملاقاتوں میں باقاعدگی آئی تو ہم نے۔اِس'' آہو ئے رم خوردہ'' کو پھر سے ''سوئے حرم '' لانے کی کوششوں کا آغاز کردیا۔
منیر انور۔ اول و آخر شاعر تو تھا۔ جینوئین شاعر۔ کب تک ہماری محبت بھری مساعی کا ابطال کرتا ، اسے ہتھیار ڈالتے ہی بنی۔ نشاة ثانیہ کا دور آیا۔ ”ماندگی “ کا طویل وقفہ۔ '' یعنی آگے چلیں گے دم لے کر '' کا مصداق بنا۔اور اب '' روپ کا کندن '' شائقینِ ادب کے ہاتھوں میں ہے۔
میرے نزدیک منیر انور کی شاعری کا سب سے بڑا وصف اس کی نغمگی ہے۔ یہ شاید موسیقی سے اس کی بے اندازہ رغبت کا فیض ہے۔مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ارادتاً اس نے شعر بہت ہی کم کہے ہیں۔۔ مترنم یا غیر مترنم بحر کے شعوری انتخاب کا جھنجھٹ بھی وہ نہیں پالتا۔۔ شعر، ایسا سمجھئے کہ بس ہو جا تے ہیں اس سے۔اور جو بھی ہوتے ہیں بلا کا ترنم ہوتا ہے ان میں۔ اس کے کئی شعر میں نے پہروں گنگنائے ہیں اور بعض مرتبہ تو کشید کردہ کیف کی ''رایلٹی'' کے طور پر اسے کافی بھی پیش کی۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ؟ ترنم ریزی کے حوالے سے ان کے چند اشعار کو آزما کر تو دیکھئے :
٭
دیکھ کتنا ترا خیال کیا
تجھ سے کوئی نہیں سوال کیا
ایک سادہ سی مسکراہٹ نے
زندگی بخش دی ، نہال کیا
٭
میں نے کچھ سوچ کر نہیں پوچھا
ایک چبھتا ہوا سوال تو تھا
٭
جیت کر بھی وہ رو دیا انور
اس سے دیکھی گئی نہ مات مری
والد گرامی کی پنجابی شاعری سے دلچسپی کے علاوہ منیر انور کا کوئی آبائی ادبی پس منظر سرے سے نہیں ہے۔ ادب سے لگاو ¿ اسے فطری طور پر عطا ہوا۔ افسانے اور مضامین بھی وہ اچھے لکھتا ہے۔ چونکہ اس وقت اس کی شاعری زیر بحث ہے لہٰذا بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس کی شاعری میں نغمگی کے ہمراہ بیان پر
بڑی قدرت ملتی ہے۔۔۔۔ '' بیان پر قدرت '' ظاہر ہے زبان کا رمز آشنا ہی رکھتا ہے۔۔ذیل کے اشعار پر خوبی ¿ بیان کے حوالے سے نظر ڈالیں تو ممکن ہے آپ بھی میرے ہم خیال ہو جائیں
٭
جانے والوں کی مجبوری ہوتی ہے
رونے والوں کو کتنا سمجھایا ہے
اول آخر ، ماتھے پر بل رہتے ہیں
جانے کس مٹی سے بن کر آیا ہے
٭
تمھیں یقین تھا ، ہم دوستی نبھا لیں گے
مجھے گمان تھا جس کا وہی ہوا آخر
میں اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا زمانہ تھا
وہ میری کھوج میں نکلا ، بکھر گیا آخر
٭
جہاں سبھی تھے ، وہاں پر نہیں تھا میں لیکن
جہاں کوئی بھی نہیں تھا وہاں تو ہونا تھا
وہ پاس رہتے ہوئے فاصلوں کا قائل تھا
اس اہتمام کو پھر داستاں تو ہونا تھا
منیر انور کی بعض غزلوں میں ردیفیں ہمیں ایسی ملتی ہیں جن سے پنجہ آزمائی آسان نہ تھی۔۔ دیکھئے تو ، کس آسانی اور قابل تعریف خوبصورتی کے ساتھ وہ ان ''مقامات ِ آہ و فغاں'' سے سرفراز گزرا ہے:
٭
ہر قدم ایک نئی چال ، بہت مشکل ہے
جال پھیلے ہیں تہِ جال بہت مشکل ہے
حوصلہ رکھنے کو کہنا تو ہے آساں لیکن
حوصلہ رکھنا بہرحال ، بہت مشکل ہے
٭
تھوڑی سی مٹی کی اور دو بوند پانی کی کتاب
ہو اگر بس میں تو لکھیں زندگانی کی کتاب
رت جگے ، تنہایاں ، پانے کا ، کھو دینے کا ذکر
لیجئے ، پڑھ لیجئے۔ میری جوانی کی کتاب
٭
یہاں شجر کا شجر داو ¿ پر ہے نادانو
تمھارے لب پہ وہی شاخ و برگ و بار کی بات
منیر انور کی شاعری اس کی شخصیت کا ہو بہو عکس ہے۔اس کے احساسات کا جمال ، اس کے طرز فکر کی خُوبُو اور اس کی افتاد طبع کا رنگ ڈھنگ ، سب کا سب اس کے شعروں میں مجسم ہو گیا ہے۔۔ کہا جاسکتا ہے کہ ''روپ کا کندن '' میں منیر انور کے اپنے روپ کا اجالا ہر سو اس طرح بکھرا ہوا ہے جیسے۔
'' چاندنی رات میں کہسار پہ کندن بکھرے ''
سیّد ضیاءالدین نعیم۔راولپنڈی
19
زندگی کا مری آسان سفر ہو جائے
تیری رحمت کی پناہوں میں بسر ہو جائے
بندگی تیری ہے انساں کی سعادت مولا
تیرے در سے جو اٹھے ، خاک بَسَر ہو جائے
ایسے پھرتے ہیں بھٹکتے جو کٹے ہیں تجھ سے
جیسے دل پر کسی شیطاں کا اثر ہو جائے
تیرا ڈر سینے میں رکھے تیرا بندہ مالک
اور پھر سارے زمانے سے نڈر ہو جائے
تو نظر پھیرے تو مٹ جائیں نشاں منزل کے
تیری رحمت ہو تو دیوار بھی در ہو جائے
کامیابی ہے مقدر میرے اللہ اگر
تیرا فرمان مری سوچ کا پر ہو جائے
اس کی خوشنودی رہے ذہن میں ہر پل انور
راستہ اس کا تری راہگذر ہو جائے
21
پیمبر آخری حضرت محمد
دلوں کی روشنی حضرت محمد
ہوئی ہے ختم ان پر پیشوائی
مجسم رہبری حضرت محمد
22
ہم کو سہنا ہی پڑا ذات کا دُکھ
درد میں ڈُوبی ہوئی رات کا دُکھ
پتھرو ، آو ¿ ، سہارو ، دیکھو
ایک شےشے سے ملاقات کا دُکھ
ہم کو آزادی کی خواہش نے دِیا
راکھ ہوتے ہوئے باغات کا دُکھ
اے خُدا اور مجھے قوت دے
سہہ سکوں اُن کی عنایات کا دُکھ
تُو مِلا بھی تو مجھے بخش گیا
غیر آسودہ ملاقات کا دُکھ
رہ بدلنے کی شکایت تو نہیں
دُکھ اگر ہے تو حسابات کا دُکھ
تُو ہے اِک شہر ، تجھے کیا معلوم
کیساہوتا ہے مضافات کا دُکھ
بِن ترے ساتھ رہے گا میرے
غیر تکمیل شدہ ذات کا دُکھ
چَین لینے نہیں دیتا انور
بَین کرتی ہوئی برسات کا دُکھ
24
مناظر ، شہر ، قصبے اجنبی ہیں
تخاطب ، لفظ ، لہجے اجنبی ہیں
یہ کیسی بے مروت سرزمیں ہے
ےہاں سب کے رویے اجنبی ہیں
سمندر لگ رہا ہے اپنا اپنا
مگر اس کے جزیرے اجنبی ہیں
زمانے ہو گئے ہیں ساتھ رہتے
مگر ہم پھر بھی کتنے اجنبی ہیں
وہی الفاظ ہیں مانوس سارے
مگر مفہوم اب کے اجنبی ہیں
لکیریں اپنے ہاتھوں کی پریشاں
مقدر کے ستارے اجنبی ہیں
ہوئی منزل گریزاں جب سے انور
زمیں ناراض ، رستے اجنبی ہیں
26
ہو چکا زیست کا فیصلہ ، ہو چکا
جو ترا تھا ، کسی اور کا ہو چکا
جگنوو ¿ں کی ضیاءچِھن گئی دوستو
تتلیوں کا زمانہ ہوا ہو چکا
اب بھلا کیا بتائیں کہ کیسے ہوا
وہ جو ہونا تھا اک حادثہ ، ہو چکا
بوڑھے لرزیدہ ہاتھوں میں کشکول ہے
اور بیٹے کا قاتل رہا ہو چکا
وقت پر اُس کا دامن تھا انور خفا
اور اب اشک گِر کر فنا ہو چکا
27
ہمارے حوصلے گھائل نہیں تھے
تمہیں اس بات پر مائل نہیں تھے
ہمیں آسانیاں راس آ گئی تھیں
زمانے راہ میں حائل نہیں تھے
ترے در پر صدا دیتے دوبارہ
ہم اس انداز کے سائل نہیں تھے
کسی جوڑے کی ہم رونق تھے یارو
کسی کے پاو ¿ں کی پائل نہیں تھے
ہم اپنے حلقہءیاراں میں انور
کسی تفریق کے قائل نہیں تھے
28
ترا مزاج تکبر کا شاخسانہ تھا
تعلقات کا منظر بدل ہی جانا تھا
گئے تھے ہم بھی فقط رسم ہی نبھانے کو
اور اس کا طرزِ عمل بھی منافقانہ تھا
کسی کے اونچے در و بام محترم تھے مگر
ہمیں ہوا کے لئے راستہ بنانا تھا
یہ خاک بغض و عداوت سے پاک رکھنی تھی
زمین دل پہ شجر پیار کا اگانا تھا
میں جانتا ہوں اُسے مجھ پہ اعتبار نہ تھا
اگرچہ مےرے گواہوں میں اک زمانہ تھا
یہ تُو نے ترکِ مراسم کی بات کیوں چھیڑی
ہمیں تو یوں بھی ترا شہر چھوڑ جانا تھا
کئی چراغ منڈیروں پہ جل بجھے انور
اُسے نہ آنا تھا ، شاید اُسے نہ آنا تھا
30
زندگی ستاتی ہے
کس قدر تھکاتی ہے
اب بھی آس کی دل میں
شمع ٹمٹماتی ہے
ہجر کے تسلسل سے
آنکھ جھلملاتی ہے
آرزو کی نادانی
خون تو رلاتی ہے
برف کے حوالوں سے
تیز دھوپ آتی ہے
اِس طرح تو انساں کی
رُوح ڈوب جاتی ہے
زندگی بہر صورت
زندگی سے آتی ہے
موسموں کی تبدیلی
رنگ تو دکھاتی ہے
جستجو مگر انور
زندگی بناتی ہے
32
کٹی پتنگ کی مانند ڈولتے ہو تم
مجھے وطن سے نکالے گئے لگے ہو تم
یہ اور بات کہ اب مصلحت شعار ہوئے
قریب میرے بھی ورنہ کبھی رہے ہو تم
کوئی رفیق نہ منزل نہ کوئی رخت سفر
یہ کس خمار میں ، کس سمت کو چلے ہو تم
فضائیں اس کی تمہیں اب بھی یاد کرتی ہیں
کہ جس دیار میں کچھ دن رہے بسے ہو تم
کوئی امید نہ وعدہ نہ حوصلہ کوئی
یقین ہی نہیں آتا چلے گئے ہو تم
تمہارے روپ کا کندن بتا رہا ہے ہمیں
کسی کی آگ میں اک عمر تک جلے ہو تم
سکوں کا ایک بھی لمحہ نہیں نصیب انور
مرا خیال ہے محور سے ہٹ گئے ہو تم
34
حضور! کوئی نہیں ہے ، جناب! کوئی نہیں
ہماری خشک زمیں پر سحاب کوئی نہیں
کہاں پہ ، کس نے ، ہمیں کس قدر تباہ کیا
سوال کتنے ہیں لیکن جواب کوئی نہیں
وہ اک کتاب ہی کافی ہے رہنمائی کو
کہ اس سے بڑھ کے جہاں میں کتاب کوئی نہیں
تو پھر یہ دھوپ سی کیسی رُکی ہے صحنوں میں
ہمارے سر پہ اگر آفتاب کوئی نہیں
میں اس کی بزم سے اٹھا تو سب ہی اٹھ آئے
اسے گماں تھا مرا ہم رکاب کوئی نہیں
پھر اس کی سمت اڑائے لئے چلا ہے ہمیں
دلِ تباہ سے بڑھ کر خراب کوئی نہیں
کچھ اس طرح وہ خفا ہیں کہ آجکل انور
سوال کوئی نہیں ہے جواب کوئی نہیں
36
خواب ، بس ایک خواب لگتا ہے
تیرا ملنا سراب لگتا ہے
دل نے اب صبر کر لیا شاید
اب وہ کانٹا گلاب لگتا ہے
طعن ، تلخی ، کجی ، کڑی تحدید
بات کرنا عذاب لگتا ہے
میں بھی اب سوچتا ہوں سود و زیاں
وہ بھی محوِ حساب لگتا ہے
ایسے لوگوں میں گھر گیا ہوں جنہیں
دل دکھانا ثواب لگتا ہے
آج گھر سے نکلنا ٹھیک نہیں
آج موسم خراب لگتا ہے
اب ہمیں ہی نہیں فراغ انور
وہ تو اب دستیاب لگتا ہے
38
ہاں موسمِ بہار بھی باقی نہیں رہا
ہاں تیرا انتظار بھی باقی نہیں رہا
جذبوں کی وہ تپش ہی دلوں میں نہیں رہی
چہروں کا وہ نکھار بھی باقی نہیں رہا
بارود ، آگ ، خون کی برسات ، الاماں
اب حسنِ کوہسار بھی باقی نہیں رہا
جو بھی ملا ، اُسی سے مراسم بڑھا لئے
اس دل کا اعتبار بھی باقی نہیں رہا
کچھ تو سنبھل گیا ہے دلِ نامراد بھی
رنگِ جمالِ یار بھی باقی نہیں رہا
انور مری سرشت ہے کم گوئی اور کچھ
لفظوں پہ اختیار بھی باقی نہیں رہا
39
ہمیں اب آپ سے کہنا نہیں کچھ
مگر ہے دال میں کالا کہیں کچھ
بہت ہے زندگی تجھ سے محبت
ہمارا ساتھ دے اے نازنیں کچھ
ہمیں کچھ حوصلہ سا ہو گیا ہے
ہوئی ہے صاف جب اُن کی جبیں کچھ
ےقینا آپ سچ فرما رہے ہیں
مرے ہی پاس کہنے کو نہیں کچھ
مری مجبوریاں تم جانتے ہو
مرے پیشِ نظر یہ بھی رہیں کچھ
بہاریں روٹھتی جاتی ہیں انور
فساد آمادہ ہیں اہلِ زمیں کچھ
40
ہر قدم ایک نئی چال ، بہت مشکل ہے
جال پھیلے ہیں تہہِ جال ، بہت مشکل ہے
حوصلہ رکھنے کو کہنا تو ہے آساں لیکن
حوصلہ رکھنا بہرحال بہت مشکل ہے
تم سے کہہ دینے کی خواہش تو بڑی ہے یارو
شرحِ بے مہری ¿ احوال بہت مشکل ہے
اُس کے دم سے ہی منظم تھیں ہماری سانسیں
اب تو سُر ہے نہ کوئی تال ، بہت مشکل ہے
آندھیاں تیز ، بہت تیز ہیں غم کی انور
بچ سکیں آج پر و بال ، بہت مشکل ہے
41
مقدّر بٹ رہا ہے
چلو کچھ تو ہوا ہے
خود اپنی داستاں میں
اُسے شامل کیا ہے
ہوا بے شک چلی ہے
دِیا جلتا رہا ہے
کہیں منزل بھی ہو گی
مسافر کو پتا ہے
ابھی روشن ہیں شمعیں
ابھی بس میں ہوا ہے
تری بستی کا موسم!
انوکھا ہے، نیا ہے
یہ کربِ کج ادائی
مسلسل حادثہ ہے
کہا تم لوٹ جاو ¿
کہا ، اب کیا بچا ہے
وہی پہنچے گا انور
وہی، جو چل پڑا ہے
43
رویے سخت ہوتے جا رہے ہیں
ہمیں کچھ لوگ پھر بہکا رہے ہیں
محبت ، امن ، احساں ، بھائی چارہ
انہی لفظوں سے پھر بہلا رہے ہیں
اجازت ہو تو دم لے لیں ذرا سا
ابھی تو اک سفر سے آ رہے ہیں
کوئی آفت مزید آئے گی شاید
پرندے گھونسلوں سے جا رہے ہیں
یہی سننے کو شاید رہ گیا تھا
یہ آخر آپ کیا فرما رہے ہیں
وہی اک ذات بس حاجت روا ہے
مگر ہم ہیں کہ دھوکے کھا رہے ہیں
بہت ہی مختصر سی داستاں ہے
اندھیرے روشنی پر چھا رہے ہیں
کئی نفرت گزیدہ لوگ انور
ہماری انجمن میں آ رہے ہیں
45
وہ تعلق ہی نبھ نہ سکتا تھا
لاکھ چاہا تھا ، لاکھ سوچا تھا
ہجر کی دھوپ ہی مقدر تھی
میں نے ہر زاویے سے دیکھا تھا
اُس کا انکار ٹھیک تھا لیکن
اُس کا لہجہ سنا تھا ؟ کیسا تھا
وقت ہجرت کا زخم بھر دے گا
کس قدر واجبی دلاسہ تھا
اُس کے دل میں اُتر گیا ہو گا
ایک آنسو ، کہ دل سے نکلا تھا
وہ فقط مجھ سے دور تھا انور
ورنہ ہر شخص اُس کا اپنا تھا
46
جب بھی ملنے کے زمانے آئے
بد گمانی میں سلگتے آئے
کس کو الزامِ تباہی دیں ہم
کئی پتھر ، کئی شعلے آئے
بھول بیٹھے ہیں اڑانیں اپنی
ہم ترے ہاتھ میں ایسے آئے
ان کے انداز میں اغماض بڑھا
میری پلکوں پہ ستارے آئے
کتنے برسوں کا سفر خاک ہوا
اس نے جب پوچھا کہ کیسے آئے
47
دیکھ کتنا ترا خیال کیا
تجھ سے کوئی نہیں سوال کیا
خوشبوو ¿ں کو تری مثال کہا
چاندنی کو ترا جمال کیا
ایک سادہ سی مسکراہٹ نے
زندگی بخش دی ، نہال کیا
کوئی تازہ ہوا تھی وہ جس نے
سانس کا زیر و بم بحال کیا
آرزو ، نارسائی ، ناکامی
اس ڈگر نے عجیب حال کیا
ہم نے ہر حال میں گذاری ہے
ہم نے ہر حال میں کمال کیا
ہم کو محفل میں بے وفا کہہ کر
آپ نے کون سا کمال کیا
ہم نے انور کسی کی حسرت میں
خود کو کس درجہ پائمال کیا
49
ہے مکمل انہی سے ذات مری
میرے بچّے ہیں کائنات مری
میں بس انسانیت کا قائل ہوں
پوچھتے کیا ہو ذات پات مری
زیست جینا محال کر دے گی
یاد آئے گی بات بات مری
اس نے بھی میرا ہاتھ چھوڑ دیا
جس کے ہاتھوں میں تھی حیات مری
اُس نے بس مسکرا کے دیکھا تھا
کھِل اٹھی ساری کائنات مری
کس قدر بے مثال سپنا تھا
چین سے کٹ گئی ہے رات مری
تیرے لہجے سے حوصلہ پا کر
گنگنانے لگی حیات مری
جیت کر بھی وہ رو دیا انور
اُس سے دیکھی گئی نہ مات مری
51
ہر ایک زخمِ تمنا بھلا لگا ہم کو
بہت عزیز ہے چاہت کا سلسلہ ہم کو
ہزار بحرِ حوادث کو مات دی لیکن
کسی کی آنکھ کا آنسو ڈبو گیا ہم کو
قریب تھا تو مسلسل گریز کرتا تھا
بچھڑ کے ہم سے مگر ، سوچتا رہا ہم کو
حضور آپ کا فرمان ٹھیک تھا لیکن
حضور آپ کا لہجہ بہت کَھلا ہم کو
خزاں رُتوں کے تسلسل میں گھر گیا انور
دِکھا رہا تھا بہاروں کا راستا ہم کو
52
کئے جاتے ہیں جو وعدے پہ وعدہ
ہمیں معلوم ہے ان کا ارادہ
یہاں انساں ہیں کم منصب زیادہ
کوئی مخدوم کوئی خان زادہ
کوئی رستہ نہیں دیتا کسی کو
رہے بالکل نہیں ہیں دل کشادہ
بہت سا پیار کب مانگا ہے میں نے
مگر اے زندگی تھوڑا زیادہ
ارادہ ہے ہمی جا کر منا لیں
انا کا چاک کر ڈالیں لبادہ
ہمیں اب مشورے دینے لگا ہے
جو ہم سے کر رہا تھا استفادہ
اسے شہہ مات ہو جائے گی انور
اگر ہم نے بڑھایا اک پیادہ
54
غیر جب آپ کا رہبر ہو گا
ہر جزیرے پہ سمندر ہو گا
جو بھی ہیں مسئلے ان پر فوراً
بات ہو جائے تو بہتر ہو گا
آج تک تو نہ ہوا یوں لیکن
آج کے بعد یہ اکثر ہو گا
وحشتوں کو جو سنبھالا نہ گیا
شہر کا اور ہی منظر ہو گا
آج عنقا ہے یہاں تابِ سخن
آج جو بولے گا باہر ہو گا
لوگ پاگل تو نہیں ہیں انور
یہ کوئی اور ہی چکر ہو گا
55
غم کو خود پر سوار مت کرنا
زخم کو اشتہار مت کرنا
ایک حد میں رہو تو اچھا ہے
حد کی دیوار پار مت کرنا
اپنی پرواز بھول جاو ¿ گے
غیر پر انحصار مت کرنا
سر اٹھانا محال ہو جائے
خود کو یوں زیرِ بار مت کرنا
وقت کب انتظار کرتا ہے
وقت کا انتظار مت کرنا
بات کرنا تو سامنے کرنا
پیٹھ پیچھے سے وار مت کرنا
حوصلے سے سہارنا غم کو
درد کو بے وقار مت کرنا
چاہتوں کے حساب میں انور
ایک پل بھی ادھار مت کرنا
57
ان سے تکرار ہو گئی آخر
راہ دیوار ہو گئی آخر
آخر کار دل بدل ہی گیا
بات تلوار ہو گئی آخر
اک غلط فہمی ، اک شکر رنجی
دل کا آزار ہو گئی آخر
آئے دن ایک ہی تماشہ ہے
خلق بے زار ہو گئی آخر
اختیارات کی لڑائی میں
تار دستار ہو گئی آخر
ہم تو سمجھے تھے بات ختم ہوئی
ذہن پر بار ہو گئی آخر
وقت پر کب سنی گئی ان سے
آہ بے کار ہو گئی آخر
عرض ، اک عرض ہی تو تھی انور
نذرِ انکار ہو گئی آخر
59
شناور ڈوب جانا چاہتے ہیں
مسافر اب ٹھکانہ چاہتے ہیں
ہمارے چاہنے والے ہمیں سے
بچھڑنے کا بہانہ چاہتے ہیں
نئی اقدار اپنائیں خوشی سے
پرانی کیوں مٹانا چاہتے ہیں
اب آگے راستہ مشکل نہیں ہے
مگر ہم لوٹ جانا چاہتے ہیں
کہیں جانے کی اندھی خواہشوں میں
کہیں سے لوٹ آنا چاہتے ہیں
عجب اِک اضطراری کیفیت ہے
اُسے بھی بھول جانا چاہتے ہیں
روایت کے گھنے جنگل میں انور
کوئی رستہ بنانا چاہتے ہیں
61
تحفہءدوستی نہیں ملتا
تنگ دل کو سخی نہیں ملتا
مجھ سے تو اور بھی بہت ہوں گے
آپ جیسا کوئی نہیں ملتا
جن کی نیت میں ہو فتور انہیں
پیار تا زندگی نہیں ملتا
میرے بچّے اداس رہتے ہیں
کام سے وقت ہی نہیں ملتا
راہ اک بار جو بدل جائے
میں اسے پھر کبھی نہیں ملتا
یہ فرشتوں کا دور ہے انور
آدمی ایک بھی نہیں ملتا
62
دُکھوں کی رات میں اک یاد کے حوالے سے
ہمارے ساتھ رہے روشنی کے ہالے سے
سفر نیا تو نہیں ہے مگر نہ جانے کیوں
ہمارے پاو ¿ں میں اُگنے لگے ہیں چھالے سے
کہا یہ اُس نے کہ ہے مستند کہا میرا
کہی نہ بات کسی مستند حوالے سے
بچھڑ کے مجھ سے اُسے ماننا پڑا یہ بھی
وہ معتبر تھا اگر ، تھا مرے حوالے سے
بہت اداس ، بڑے مضمحل سے لوٹے ہیں
سوال کرنے گئے تھے کلاہ والے سے
ذرا سا اپنے گریباں میں جھانکئے انور
گِلہ درست نہیں آسمان والے سے
64
تےرے آنچل کو ستاروں سے سجانا چاہوں
میں بَہَر طَور تجھے اپنا بنانا چاہوں
وہ تو گردش ہے مِرے پاو ¿ں میں ساتھی ورنہ
کون کہتا ہے تِرے شہر سے جانا چاہوں
مانتا ہوں کہ بہت عیب ہیں مجھ میں لیکن
دل کسی کا کسی پہلو نہ دکھانا چاہوں
یہ کھلونے میری وقعت سے بہت مہنگے ہیں
اپنے بچے کو یہی بات سجھانا چاہوں
جل رہا ہے میرے ہمسائے کا گھر ، اور میں بس
اپنی دیوار کو شعلوں سے بچانا چاہوں
بے زری جرم بھی ہے ، جرم کی تمہید بھی ہے
حاکم وقت کو بس اتنا بتانا چاہوں
منصفو ، محتسبو ، مجھ کو سزا دو کہ میں پھر
زخم احساس زمانے کو دکھانا چاہوں
اُس کو ضد ہے کہ نئے ڈھنگ سے چاہوں اُس کو
میں اُسی لَے میں ، وہی گیت سنانا چاہوں
بھول کر خالق دَوراں کی مشیّت انور
رےت پر نقش بنا کے ، نہ مٹانا چاہوں
66
اب مری راہ سے ہٹا سپنے
اب کسی اور کو دکھا سپنے
ہم نے وہ راستہ ہی چھوڑ دیا
جس پہ بکھرے تھے جا بجا سپنے
زندگی سے نظر چراتا کون
کون بے کار دیکھتا سپنے
اتنا آسان بھی نہیں ہوتا
جاگنا اور دیکھنا سپنے
چین سے کٹ رہی تھی زندہ تھے
کون آنکھوں میں بو گیا سپنے
ہم نے پوچھا تھا بے کلی کا سبب
دل نے ہنستے ہوئے کہا سپنے
میں تو کب کا بھلا چکا ہوتا
تیرا لہجہ دکھا گیا سپنے
زندگی تلخ تر حقیقت ہے
تو یہ کیا دیکھنے چلا سپنے
آج انور بہت اداس ہوں میں
آج یاد آئے بے بہا سپنے
68
ہمارے ساتھ چلے ، حوصلہ کسی کا نہیں
بس ایک شخص تھا ، وہ بھی ہوا کسی کا نہیں
ابھی تو بزم میں بس ذکر ہی چلا تھا ترا
وہیں کہیں سے کسی نے کہا ، کسی کا نہیں
عجیب شخص ہے باتیں کمال کرتا ہے
گلہ کرے گا ، کہے گا ، گلہ کسی کا نہیں
تمہارے سکّوں میں کر دوں ادائیگی تم کو
مگر یہ دل کہ برا سوچتا کسی کا نہیں
ہمیں یقیں تو نہیں ہے یہ لوگ کہتے ہیں
تمہارے شہر میں ہوتا بھلا کسی کا نہیں
جو بات ہم نے سرِ بزم اُن سے کہہ دی ہے
یہ بات کوئی کہے ، حوصلہ کسی کا نہیں
ہمیں یقین کی حد تک گمان ہے انور
وہ شخص آج بھی اپنے سوا کسی کا نہیں
70
” تذبذب “
مرے بائیں ہاتھ کی پشت پر
یہ جو چاند سا ہے سجا ہوا
تری خوشبوو ¿ں میں بسا ہوا
تری چاہتوں میں گندھا ہوا
اسے ماہِ مہر و وفا کہوں؟
تری حسرتوں کی صدا کہوں؟
ترے انتظار میں جو کٹے
اسے ان دنوں کا صلہ کہوں؟
اسے کیا کہوں؟؟
71
تھوڑی سی مٹی کی ، اور دو بوند پانی کی کتاب
ہو اگر بس میں تو لکھیں زندگانی کی کتاب
رتجگے ، تنہائیاں ، پانے کا ، کھو دینے کا ذکر
لیجئے ، پڑھ لیجئے میری جوانی کی کتاب
کہہ رہی ہے شہر کی بربادیوں کی داستاں
ادھ جلے کچھ کاغذوں میں اک کہانی کی کتاب
زندگی بھر کفر کے فتووں کی زد میں تھا وہ شخص
معتبر ٹھہری ہے اب جس آنجہانی کی کتاب
وقت کے ظلمت کدے میں ہے بھلا کس کو دوام
اب کہاں سے لاو ¿ں میں تیری نشانی کی کتاب
دیکھئے جس کو لئے پھرتا ہے انور دوش پر
اپنی ناکامی کسی کی کامرانی کی کتاب
73
بے تکان دعوے ہیں پیار کے رفاقت کے
ہاں مگر محبت میں رنگ ہیں سیاست کے
وہ جہاں بٹھاتے ہیں ، لوگ بیٹھ جاتے ہیں
اور کچھ نہیں صاحب، ہیں کمال طاقت کے
دوستی نہیں کوئی ، دشمنی نہیں کوئی
ہم کرم گزیدہ ہیں آپ کی محبت کے
اور ہیں تقاضے کچھ عدل کے ، اصولوں کے
اور کچھ طریقے ہیں آپ کی عدالت کے
شاہِ محترم! ہم کیا اور ہماری رائے کیا
اک جہاں میں چرچے ہیں آپ کی شرافت کے
اُن پہ آجکل انور اک جنون طاری ہے
آیئے ہمی روکیں سلسلے عداوت کے
75
کہا یہ میں نے کہ اپنی آنکھوں میں خواب رکھنا
کہا یہ اُس نے کہ آنکھ رکھنا ، عذاب رکھنا
یہ میں نے پوچھا تھا لوگ کیوں مر رہے ہیں اتنے
جواب آیا ، تم ان کے خوں کا حساب رکھنا
کہا یہ میں نے زمین پر امن ہو سکے گا؟
کہا کہ ہاتھوں میں علم رکھنا ، کتاب رکھنا
کہا یہ میں نے کہ زندگی کس طرح کٹے گی
کہا یہ اُس نے کہ چاہتیں بے حساب رکھنا
کہایہ میں نے ، ہوائیں ہیں تند و تیز کتنی
وہ ہنس کے بولی کہ کشتیاں زیرِ آب رکھنا
کہا یہ اُس نے کہ دائرے سے نکل کے دیکھیں؟
کہا کہ پہلے کوئی سفر انتخاب رکھنا
کہا یہ اُس نے کہ بھِیڑ میں ہم بچھڑ نہ جائیں
کہا کہ جوڑے میں ایک تازہ گلاب رکھنا
کہا یہ اُس نے کہ ہم اگر سچ کا ساتھ دیں تو؟
کہا یہ میں نے کہ زخم سہنے کی تاب رکھنا
77
”کم مائیگی “
اک دن میں اک نظم کہوں گاتیری خاطر
اور اس نظم میں
اپنے دل کی ساری باتیں
اک اک کر کے کہہ ڈالوں گا
میں نے تجھ کو کیسے کیسے کس کس رنگ میں دیکھا ہے
تیرے لئے میرے دل میں کیا کیا جذبات فروزاں ہیں
یہ اور ایسی کتنی باتیں
جو میں تجھ سے کہنا چاہوں
تجھ سے کہوں گا
میرے ذہن میں لہریں لیتا سوچ سمندر
جب میری مرضی کے لفظ عطا کر دے گا
تب اس نظم کے ہر اک لفظ میں تیری خوشبو بس جائے گی
میری گواہی بن جائے گی
78
لوگ کتنے اداس ہیں لوگو
زندگی سے نراس ہیں لوگو
میرے بچوں کے دلنشیں چہرے
کس قدر پُر ہراس ہیں لوگو
زندگی میں سکوں کا نام نہیں
حادثے آس پاس ہیں لوگو
جس کو دریا بجھا نہیں سکتے
ہم سمندر کی پیاس ہیں لوگو
آئینے سے گریز کرتے ہیں
وہ بہت خود شناس ہیں لوگو
کون ، کس پر اٹھائے گا انگلی
سب کے سب بے لباس ہیں لوگو
یہ وطن ہی ہمارا گلشن ہے
ہم اسی گل کی باس ہیں لوگو
80
نت نئی تہمتیں اٹھاتے ہیں
اہل دل یوں بھی مسکراتے ہیں
بجلیوں سے بھلا شکایت کیا
چل نیا آشیاں بناتے ہیں
رنگ ، شبنم سی تازگی ، خوشبو
اس کے رخ سے گلاب پاتے ہیں
میں نے دیکھا ہے روبرو اس کے
آئینے خود کو بھول جاتے ہیں
کوئی امید اب بھی ہے باقی
یہ جو زنجیر ہم ہلاتے ہیں
اپنی تکمیل سے ذرا پہلے
جانے کیوں عکس ٹوٹ جاتے ہیں
یہ فقط اشک تو نہیں انور
خواب آنکھوں میں جھلملاتے ہیں
82
اک چہرے سے ایک نقاب اٹھایا ہے
ہم نے ساری محفل کو چونکایا ہے
ہم نے کتنی چاہ سے تانا ہے سینہ
اس نے کتنے پیار سے تیر چلایا ہے
جانے والوں کی مجبوری ہوتی ہے
رونے والوں کو کتنا سمجھایا ہے
اوّل آخر ماتھے پر بل رہتے ہیں
جانے کس مٹی سے بن کر آیا ہے
لگتا ہے پھر کوئی ضرورت آن پڑی
اس نے آج مجھے گھر پر بلوایا ہے
بھوکے ننگے بچوں کی اس بستی میں
ایک کھلونے بیچنے والا آیا ہے
میرے فون پہ لہرایا ہے نام اس کا
لگتا ہے انور وہ راہ پہ آیا ہے
84
وقت وہ بھی رہا ہے محفل پر
چپ تھی ہونٹوں پہ ہاتھ تھے دل پر
سسکیاں تھیں کہ تھم نہیں پائیں
اور آ نسو کہ جم گئے دل پر
میں گرفتارِ لہرِ خود سر تھا
چارہ گر منتظر تھا ساحل پر
میں تو منزل پہ جا کے لوٹ آیا
میری منزل کہاں تھی منزل پر
راہ کی الجھنوں میں مت الجھو
دھیان رکھو سفر کے حاصل پر
چور کے ہاتھ کاٹنے سے قبل
غور کر لیجئے عوامل پر
بہتری کی امید ہے انور
انگلیاں اُٹھ رہی ہیں قاتل پر
86
کہا اُس نے میں ہوں تنہا اُدھر سارا زمانہ ہے
کہا میں نے زمانہ ہر طرح کا بیت جانا ہے
کہا اُس نے کہ تم بھی اور لوگوں کی طرح سے ہو
کہا میں نے تمہارا حوصلہ بھی آزمانا ہے
کہا اُس نے کہ اب تک راستے محفوظ تھے لیکن
کہا میں نے اِسی لیکن کا تو سارا فسانہ ہے
کہا اُس نے کہ میرے خواب میں تم ساتھ تھے میرے
کہا میں نے کہ خوابوں کو حقیقت بھی بنانا ہے
کہا اُس نے کہ دیکھو ظلمتوں کا ساتھ مت دینا
کہا میں نے ہواو ¿ں میں دیا رکھ کر جلانا ہے
کہا اُس نے کہ منزل اور کتنی دور ہے انور
کہا میں نے ہمیں اِس دُھند کے اُس پار جانا ہے
88
” حادثہ “
درد کی کسی رو میں
اس نے کہہ دیا آخر
کاش ہم نہیں ملتے
89
تجھے دل سے اتارا ہی نہیں تھا
کہ تیرے بن گذارہ ہی نہیں تھا
ہمیں بھی زندگی مشکل لگی تھی
یہ عالم بس تمہارا ہی نہیں تھا
پلٹ کے آ بھی سکتا تھا وہ لیکن
اسے ہم نے پکارا ہی نہیں تھا
ترے لہجے میں تبدیلی چہ معنی
تری جانب اشارہ ہی نہیں تھا
اسے الزام دھرنا تھا کسی پر
کہ کوئی اور چارہ ہی نہیں تھا
یہ صدمہ یوں بھی مشکل ہے کہ پہلے
کبھی میں خود سے ہارا ہی نہیں تھا
کٹے ہیں وہ بھی لمحے زندگی سے
جنہیں ہم نے گذارا ہی نہیں تھا
بہت آسان ہو سکتی تھیں راہیں
ہمیں چلنا گوارہ ہی نہیں تھا
محبت پر یہ وقت آنا تھا انور
کوئی صدقہ اتارا ہی نہیں تھا
91
بھول جانے کا حوصلہ تھا مگر
مجھ میں اک شخص چیختا تھا مگر
بات ہوتی تو حل نکل آتا
بات کرنا ہی مسئلہ تھا مگر
میں نے پتھر اٹھا لیا ہوتا
میرے اندر جو آئینہ تھا مگر
دور تک تیرگی مسلط تھی
ایک جگنو چمک رہا تھا مگر
بند لگتے تو تھے سبھی رستے
تیسرا راستہ کھلا تھا مگر
میں کہاں ہار مان سکتا تھا
اُس کی آنکھوں نے کہہ دیا تھا مگر
یک پل ، ایک جست اور منزل
ایک وہ پل ٹھہر گیا تھا مگر
میں بھی ہٹ تو گیا نشانے سے
تیر بھی رخ بدل چکا تھا مگر
آپ جو کہہ رہے تھے ٹھیک تھا وہ
مسئلہ میرا دوسرا تھا مگر
جاں تو جانی ہی تھی وہاں انور
ایک عزت کا راستہ تھا مگر
93
ہوا ہے اُس پہ چاہت کا اثر آہستہ آہستہ
شفق اتری تو ہے رخسار پر آہستہ آہستہ
نہ جانے کون سچ بولے گا اس کے رو برو آ کر
اُٹھے جاتے ہیں سارے با خبر آہستہ آہستہ
فضاءمیں نفرتوں کی تابکاری بڑھ گئی ہو گی
جو جھلسے ہیں محبت کے شجر آہستہ آہستہ
نہ جانے آئینے پر گرد تھی کتنے زمانوں کی
میں اپنے آپ کو آیا نظر آہستہ آہستہ
یہی انسان کو کھائے چلا جاتا ہے اندر سے
یہی اندیشہءشام و سحر آہستہ آہستہ
مسائل ہیں کہ روز اک اور ہی صورت ابھرتے ہیں
بڑھا جاتا ہے میرا دردِ سر آہستہ آہستہ
کوئی عفریت رونق لے گیا ہے میری بستی کی
ہوئے ویران سارے بام و در آہستہ آہستہ
ابھی ابہام غالب ہے مگر کھل جائے گا آخر
کمالِ خوبیءدستِ ہنر آہستہ آہستہ
ہم اپنے سخت جاں ہونے کا دعویٰ کیا کریں انور
کہ ہو جاتی ہے اکثر چشم تر آہستہ آہستہ
95
سوچ کی کہکشاں سے باہر تھا
میرے وہم و گماں سے باہر تھا
میں ترے ساتھ ہی تو تھا اب تک
ہاں مگر کارواں سے باہر تھا
میرے سر پر رہا ہے ہاتھ ترا
میں بھلا کب اماں سے باہر تھا
اپنے گھر میں سکوں تھا ، ٹھنڈک تھی
خوف بس آشیاں سے باہر تھا
میرے سر پر یہ آ گرا کیسے
میں تو شاید مکاں سے باہر تھا
اُس کا تو ذکر ہی نہیں ہے کہ وہ
حلقہءدوستاں سے باہر تھا
یہ اُسی شخص کی کہانی ہے
جو تری داستاں سے باہر تھا
تھی مجھے جس کی جستجو انور
وہ مرے آسماں سے باہر تھا
97
” کہا تو تھا “
کہا تو تھا کہ ابھی مجھے کام ہیں بہت سے
ابھی میں زلفوں کی ، ابروو ¿ں کی
نظر کے تیر و کمان کی گفتگو کے قابل کہاں ہوا ہوں
کہا تو تھا کہ اگر یہی سب تمہارے اندر کی آرزو ہے
تولوٹ جاو ¿
کہ میں ابھی تک سمندروں کی نظر میں ہوں
اور تمہیں
کناروںکی ، ساحلوں کی
ہری بھری خوشبوو ¿ں سے بوجھل حسین راہوں کی آرزو ہے
کہا تو تھا
کہ ابھی تمہاری یہ نرم زلفیں ، مہکتی سانسیں ، چمکتے عارض،
ہماری راہوں کے ریگزاروں سے بے خبر ہیں
کہا تو تھا
نارسائی کا دکھ نہ سہ سکو گی
98
صبح تھے کچھ اور تیور ، اور ہیں کچھ شام میں
زندگی گم ہو گئی ہے سایہءابہام میں
ہم شریک انجمن آرائی ہو جاتے مگر
کچھ اشارے اور بھی تھے اس صلائے عام میں
بس وہی لہجہ ، تحکم ، خود نمائی ، خود سری
کچھ نیا ہرگز نہیں تھا آپ کے پیغام میں
تم تو بس یونہی پریشاں ہو گئے ہو دوستو
عمر گذری ہے ہماری قریہءدشنام میں
کس ہنر مندی سے اس نے پھر بنا لفظوں کا جال
آ گیا ہے دل کا پنچھی پھر کسی کے دام میں
یہ مرے شہرت کے طالب سوچتے کب ہیں مگر
فرق تو ہوتا ہے انور ننگ میں اور نام میں
100
یوں نہیں ہے کہ یہیں کوئی نہیں
سوچنے والا کہیں کوئی نہیں
سب کے سب ذات میں اپنی گم ہیں
کون بولے گا ، نہیں ، کوئی نہیں
کیسے قسمت کے اندھیرے جائیں
شہر میں ماہ جبیں کوئی نہیں
سر پہ افلاک کا سایہ ہے مگر
پاو ¿ں کے نیچے زمیں کوئی نہیں
ایک بس تُو ہے مرے سینے میں
اور اس دل کا مکیں کوئی نہیں
پھول ، پھل ، چشمے ، ہوائیں کیسے
گر سرِ عرشِ بریں کوئی نہیں
اس کے ہر تازہ ستم کا عنواں
جز مری جانِ حزیں کوئی نہیں
کیسی بستی میں تم آئے انور
ہیں مکاں اور مکیں کوئی نہیں
102
دائرے سے نکال دے کوئی
ہم کو رستے پہ ڈال دے کوئی
سانس رکنے لگی ہے سینے میں
یہ کڑا وقت ٹال دے کوئی
یوں کیا ہے سلام اس نے مجھے
جیسے پتھر اچھال دے کوئی
اُس کی حسرت میں جو گذار دیئے
وہ مرے ماہ و سال دے کوئی
بات کرنا محال لگتا ہے
میرے مولا کمال دے کوئی
کاش میری خطاو ¿ں کو انور
اک تبسم سے ٹال دے کوئی
104
ربط باہم بحال کر انور
تو ہی کوئی سوال کر انور
خود میں کتنا سمٹ گیا ہے وہ
اس سے کچھ حال چال کر انور
آ گیا ہے تو مل اسے تو بھی
رنج دل سے نکال کر انور
بات کرنی ہے ظلم سے ہم کو
آنکھ میں آنکھ ڈال کر انور
خود اسے بھی نہیں سکون ملا
ہم پہ کیچڑ اچھال کر انور
لکھ رہا ہے فراقِ یار کی بات
ماہ کو ایک سال کر انور
وہ مجھے چاہتا تو ہے لیکن
اپنے سانچے میں ڈھال کر انور
106
وصل میں ہجر کی بے رحم بلائیں دے کر
آپ خوش ہیں نا ہمیں طرفہ سزائیں دے کر
میرے لوگوں کو نئے خواب دکھائے اُس نے
میرے صحراو ¿ں کو بے فیض گھٹائیں دے کر
جسم کے زخموں کو مرہم کی سنائی ہے نوید
روح کو ڈستی المناک فضائیں دے کر
ہم چھپا جاتے ہیں ہر زخم تمنا اکثر
اپنے احساس کو لفظوں کی قبائیں دے کر
کیوں یہ تنہا سفری راس نہ آئی تم کو
کیوں پشیمان ہوئے اس کو صدائیں دے کر
کس نے بخشا ہے نیا حوصلہ پھر سے ہم کو
کون گزرا ہے یہ جینے کی دعائیں دے کر
کیا بتاتے کہ ہمیں پیار ہے اس سے انور
کیا بلاتے اسے پیچھے سے صدائیں دے کر
108
حدیثِ درد کو آخر بیاں تو ہونا تھا
جو کرب دل میں چھپا تھا عیاں تو ہونا تھا
وہ پاس رہتے ہوئے فاصلوں کا قائل تھا
اس اہتمام کو پھر داستاں تو ہونا تھا
زمیں کا تاج تھا وہ شخص اپنی ہستی میں
زمیں سے بڑھ کے اسے آسماں تو ہونا تھا
دکھوں کی دھوپ کے اس دورِ بے مروّت میں
مجھے کسی کے لئے سائباں تو ہونا تھا
تجھے یہ کس نے کہا تھا حساب مانگ اس سے
اب ایسی بات پہ جاں کا زیاں تو ہونا تھا
جہاں سبھی تھے وہاں پر نہیں تھا میں لیکن
جہاں کوئی بھی نہیں تھا وہاں تو ہونا تھا
جو میں نہ ہوتا سرِ دار ، دوسرا ہوتا
کسی کو خلقِ خدا کی زباں تو ہونا تھا
وہ خود پسند ، جفا کار شخص تھا انور
نتیجتاً اسے بے کارواں تو ہونا تھا
110
”مشورہ “
اسے آواز دینے سے ذرا پہلے
یہ اپنے ذہن میں رکھنا
کہ جب کوئی
کسی کو چھوڑ جانے کا ارادہ کر ہی لیتا ہے
تو پھر مغموم آوازیں
کہیں دم توڑتے لہجے
بکھرتے ٹوٹتے لفظوں کی جھنکاریں
بس اک ہارے کھلاڑی سے زیادہ
کچھ نہیں ہوتیں
111
کسی سے بھی نہیں الجھا کریں گے
چلو ہم آج سے ایسا کریں گے
ہمیں ہر حال میں منزل کی دھن ہے
ہر اک دیوار کو رستا کریں گے
ہم اپنی پیاس پر پہرے بٹھا کر
ترے صحراو ¿ں کو دریا کریں گے
مبارک ہوں تمہیں مانگی شرابیں
ہم اپنا خونِ دل صہبا کریں گے
خود اس کے ہاتھ پر لکھیں گے خود کو
لکیروں پر بھروسہ کیا کریں گے
نہیں بیچیں گے اپنے لفظ انور
جو سوچیں گے وہی لکھا کریں گے
113
کوئی جتنا سر مارے
کب رکتے ہیں بنجارے
اتنے وہ مختار نہیں
جتنے ہم ہیں بے چارے
شام ڈھلے مل بیٹھیں گے
تیری یادیں ، ہم ، تارے
ہم نے ایک تری خاطر
کیا کیا روپ نہیں دھارے
دور کھڑے ہو کر تجھ پر
ہم نے کتنے گل وارے
دل میں پیار کے پھول مگر
ذہن میں لاکھوں انگارے
دیکھو ہم نے مان لیا
تم جیتے اور ہم ہارے
میرے گھر میں دھوپ اور دکھ
تیرے آنگن سکھ سارے
اپنی آنکھیں دریا ہیں
تیرے لفظ ندی دھارے
اب کیسے سمجھائیں ہم
ہم کس کو کیسے ہارے
کچھ لکھنے والے انور
لکھ جاتے ہیں شہہ پارے
115
میں اگر کچھ بھی بولتا یارو
لعل مٹی میں رولتا یارو
مجھ پہ الزام کم نوائی ہے
کوئی سنتا تو بولتا یارو
یہ محبت ہے آپ کی ورنہ
بھید میں دل کے کھولتا یارو؟
اُس پہ کتنا تھا اعتماد ہمیں
کم سے کم وہ نہ ڈولتا یارو
دوست ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا
زہر امرت میں گھولتا یارو؟
بات کرنا اگر ضروری تھا
بات اپنی وہ تولتا یارو
دل میں بس ایک ہی تمنا تھی
وہ کبھی ہنس کے بولتا یارو
117
”گم گشتہ“
آو ¿ ہم پھر سے نئے خواب بنیں
خواب ایسے کہ جو ماضی کے دریچے کھولیں
خواب،
وہ خواب کہ جو بیتے دنوں کی خوشیاں
پھر اجاگر کریں ان اجڑے ہوئے لمحوں میں
جن میں کوئی بھی تو شاداب ہنسی ساتھ نہیں
عہدِ ماضی کے وہ گم گشتہ رفیق
اس نئے عہد میں اب جن میں سے
کوئی بھی پاس نہیں ساتھ نہیں
میرے ہاتھوں میں ترا ہاتھ نہیں
118
تم نے جو بھی کیا کمال تو تھا
اس طرح سوچنا محال تو تھا
اس کی اس بے ضرر شرارت میں
جاں سے جانے کا احتمال تو تھا
جانے پہچان کیوں نہیں پایا
آئینہ محوِ خدّوخال تو تھا
میں نے پھر بات ہی بدل ڈالی
اس کی آنکھوں میں اک سوال تو تھا
میں تمہارے لئے چلا آیا
راہ میں حادثوں کا جال تو تھا
اس کے انداز میں دمِ رخصت
اور کچھ ہو نہ ہو ملال تو تھا
میں نے کچھ سوچ کر نہیں پوچھا
ایک چبھتا ہوا سوال تو تھا
بھیڑ میں کھو گیا کہیں انور
لفظ اک حاصلِ خیال تو تھا
120
ملا تو دے کے جدائی چلا گیا آخر
ہمارے حصّے میں تنہا سفر رہا آخر
اگر یہ طے تھا کہ ہر بات سے مکرنا ہے
تو ساتھ دینے کا وعدہ ہی کیوں کیا آخر
اسے خیال تھا کتنا جہان والوں کا
اسی خیال میں جاں سے گذر گیا آخر
تضادِ فکر کا الزام کچھ درست نہیں
کہا تھا میں نے جو اوّل ، وہی کہا آخر
وہ میرے درد ، مرے غم کو بانٹنے والا
اک اور کرب مجھے دان کر گیا آخر
تمہیں یقین تھا ہم دوستی نبھا لیں گے
ہمیں گمان تھا جس کا وہی ہوا آخر
فرازِ دار سے پہلے کا وقت مشکل تھا
کسی کی یاد کے سائے میں کٹ گیا آخر
جب اختیار تھا تم فیصلہ سنا دیتے
تمام عمر تذبذب میں کیوں رکھا آخر
میں اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا زمانہ تھا
وہ میری کھوج میں نکلا ، بکھر گیا آخر
میں اعتبار کی دنیا سے کٹ گیا انور
کسی کے ساتھ میں اتنا بھی کیوں چلا آخر
122
خول سے اپنے نکل آئیں جناب
اس جہاں پر غور فرمائیں جناب
دوستی اُن کی مبارک آپ کو
ہاں مگر اتنا نہ اِترائیں جناب
چھوڑ دیں یہ ہاتھ پھیلانے کی خو
خود اگائیں اور خود کھائیں جناب
ہے سیاست اور دھوکہ اور ہے
ہو نہیں سکتی ہیں دو رائیں جناب
یہ جہاں گیری کے خواب اچھے تو ہیں
یوں نہ ہو سپنے بکھر جائیں جناب
ہو نہ جائے کچھ غلط فہمی اُنہیں
آئیے اُن سے بھی مل آئیں جناب
ایک سیدھا راستہ موجود ہے
چھوڑئیے یہ دائیں اور بائیں جناب
دوسروں کی بات کب سنتے ہیں آپ
آپ کی محفل میں کیا آئیں جناب
124
وہ خوش ہے اپنا بوجھ مرے سر پہ ڈال کر
میں مطمئن فرار کے رستے نکال کر
تو کیوں چلا گیا مجھے جھنجھٹ میں ڈال کر
دم گھٹ رہا ہے آ مری سانسیں بحال کر
اب منہہ چھپائے کس لئے پھرتا ہے شہر میں
میں نے کہا بھی تھا ، نہ کسی سے سوال کر
تا دیر لوگ یاد رکھیں تجھ کو پیار سے
کچھ ایسے لفظ بول ، کچھ ایسا کمال کر
اب وہ ہے رہ کی تیرگی ہے اور بے کسی
اس نے کیا تھا فیصلہ سکّہ اچھال کر
میں نے دیا حوالہ کتابِ مبین سے
لائے وہ اک ضعیف روایت نکال کر
انور سفر میں ساتھ کسی کا بھلا تو ہے
لیکن کسی کے ساتھ چلو دیکھ بھال کر
126
” دائمی روشنی “
زندگی درد ہے اور درد کا عنوان وطن
میری پہچان ، مری شان ، مری آن وطن
اے وطن ہم تری بربادی پہ شرمندہ ہیں
بیچنے ، توڑنے والے بھی تجھے زندہ ہیں
ان کی سازش ہے تری رہ میں اندھیرے چھائیں
چاہتے ہیں کہ تجھے بیچ دیں اور کھا جائیں
اے وطن ہم تری حرمت کی قسم کھاتے ہیں
تیری عزت ، تیری عظمت کی قسم کھاتے ہیں
نام پہ تیرے کوئی آنچ نہ آنے دیں گے
تجھ پہ ظلمت کی گھٹائیں نہیں چھانے دیں گے
ہم تری رہ میں جلائیں گے سدا خوں کے چراغ
روشنی جن کی کبھی ماند نہ ہو ایسے چراغ
128
پیار کا آخری دیا لے جائے
آنکھ میں ہے جو خواب سا ، لے جائے
اپنی راتوں میں روشنی کے لئے
آئے ، آ کر مرا دِیا لے جائے
زندگی کے سفر میں کیا معلوم
کون سا پل کہاں بہا لے جائے
میرے دیوار و در مجھے دے دے
اپنے خوابوں کا سلسلہ لے جائے
جل بجھا ہے چمن کا ہر بوٹا
راکھ باقی ہے سو ہوا لے جائے
ہم یہ احساں اٹھا نہیں سکتے
اُس سے کہہ دو کہ یہ گھٹا لے جائے
پھول کب کا بکھر چکا انور
پتّیاں کوئی بھی اٹھا لے جائے
130
راستے بند نہ ہونے دیں گے
اپنی منزل نہیں کھونے دیں گے
عام کر دیں گے محبت کا چلن
اپنے بچوں کو نہ رونے دیں گے
راہ گلزار نہیں ہے تو نہ ہو
کم سے کم خار نہ بونے دیں گے
اپنے ماحول پہ رکھیں گے نظر
رہبروں کو نہیں سونے دیں گے
لفظ کے دیپ جلائیں گے سدا
تیرگی عام نہ ہونے دیں گے
دیر تک ذکر کریں گے تیرا
بزم کو آج نہ سونے دیں گے
132
” کرب کا موسم“
اب تو کرب کا موسم
جم گیا ہے آنکھوں میں
امن کے حوالے سب
رہ گئے کتابوں میں
وحشتوں کا جنگل ہے
وحشتوں کے جنگل سے
کون بچ سکا اب تک
وحشتوں کے اپنے بھی
کچھ اصول ہوتے ہیں
اور ان اصولوں سے
کون بچ کے نکلے گا
133
سنی کسی نے کہاں میرے انتظار کی بات
ہر اک زباں پہ رہی اختیارِ یار کی بات
ابھی ہے وقت ، چلو رابطہ بحال کریں
دلائیں یاد اسے عہدِ پائیدار کی بات
ابھی ہیں کرب کے کچھ اور مرحلے باقی
ابھی چلی ہی کہاں ہے مرے دیار کی بات
یہاں شجر کا شجر داو ¿ پر ہے نادانو
تمہارے لب پہ وہی شاخ و برگ و بار کی بات
بڑا بلیغ اشارہ تھا اُس کی باتوں میں
ہمارا ذکر تھا اور راہ کے غبار کی بات
کسی کے دل کے اُجڑنے کی بات ہے انور
خزاں کی بات نہیں ہے ، نہیں بہار کی بات
135
دل سے دل کا رابطہ بس اسقدر رکھا گیا
آہنی دیوار میں شیشے کا در رکھا گیا
میں کسی کا راز تھا لیکن نہ جانے کیوں مجھے
صورت نغمہ ہوا کے دوش پر رکھا گیا
بات کہنے کا سلیقہ تو سبھی کو تھا مگر
ایک بس اس کا بھرم پیش نظر رکھا گیا
پھر کسی کی زندگی برباد کر ڈالی گئی
جانے کس کا جرم تھا اور کس کے سر رکھا گیا
چار سو پتھر کی دیواریں اٹھائیں اور پھر
میرے اندر ایک دست شیشہ گر رکھا گیا
خامشی بہتر تھی لیکن بولنا واجب ہوا
مجھ پہ اک الزام جب بارِ دگر رکھا گیا
سارے فتوے سب دلیلیں ہو گئیں نا معتبر
جب کسی سلطان کی چوکھٹ پہ سر رکھا گیا
آدمی مانے نہ مانے ورنہ پہلے روز سے
اس میں انور اک عِیار خیر و شر رکھا گیا
137
”فہمائش“
اُس طرح کی فہمائش
پھر کبھی نہیں ہو گی
جس طرح مری ماں نے
اپنے پیار کی چادر
میرے سر پہ پھیلا کر
اپنی گود میں بھر کر
مجھ سے یہ کہا ، بیٹا!
تم نے جھوٹ بولا ہے
اب اگر کبھی تم نے
جھوٹ جو کہا مجھ سے
تو میں روٹھ جاو ¿ں گی
پھر یہ گود یہ چادر
ڈھونڈتے رہو گے تم۔
میں نے اس کے بعد انور
جھوٹ تو نہیں بولا
پھر وہ پیار کی چادر
ماں کی گود کی گرمی
کیوں بچھڑ گئی مجھ سے
139
تو میرے ساتھ نہ چل ، میرا اعتبار نہ کر
مگر مجھے کبھی غیروں میں بھی شمار نہ کر
یہ کم نظر نہیں سمجھیں گے داستانِ الم
کسی پہ حالِ دلِ زار آشکار نہ کر
قرارِ خاطرِ جاں کے ہزار رستے ہیں
کسی کے پیار میں راہوں کو خارزار نہ کر
عدو کے ساتھ رہ و رسم ہو تو ہو لیکن
وطن کی عزت و غیرت کو داغدار نہ کر
کبھی کبھی کے تغافل کی بات اپنی جگہ
مرے عزیز مگر بے رخی شعار نہ کر
کسی کے ہاتھ نہ دے اپنی زندگی انور
کسی کے وعدے پہ اس درجہ انحصار نہ کر
141
تیرے بام و در پتھر
پھینک بے خطر پتھر
ایک شخص یاد آیا
آج دیکھ کر پتھر
سنگ کی طرح لہجہ
لفظ سر بسر پتھر
سب سنبھال کر رکھنا
جو گریں ادھر پتھر
دور تک اندھیرا ہے
اور رہ گذر پتھر
خواب اپنے آئینہ
زندگی مگر پتھر
کر دیا ہے وحشت نے
سوچ کا نگر پتھر
لوٹنا تو ہوتا ہے
پھینکئے اگر پتھر
آئینہ گری پیشہ
اور ہے ثمر پتھر
اس طرف نہ پھینکا تھا
جا گرا جدھر پتھر
مت اٹھایئے انور
بات بات پر پتھر
143
یہ تو بس آپ کی محبت ہے
ورنہ کب زندگی کی حاجت ہے
درِ توبہ کھلا ہوا ہے مدام
آخری وقت بھی غنیمت ہے
آپ چلتے تو ہیں مگر سنیے
راہ میں دھوپ ہے تمازت ہے
کاش دنیا میں امن ہو جائے
ایک ، بس ایک ہی تو حسرت ہے
جانے والے پلٹ بھی آتے ہیں
جایئے ، آپ کو اجازت ہے
اب تو کچھ یاد ہی نہیں رہتا
اک عجب بے خودی کی حالت ہے
آئینے خود چٹخ رہے ہیں یہاں
پتھروں کی کسے ضرورت ہے
دل کا شیشہ سنبھالیئے انور
شہر آذر ہے اور وحشت ہے
145
حرف کی بے بسی کا کیا
اس کی نکتہ رسی کا کیا
وہ بہت زود رنج ہے لیکن
لب پہ آئی ہنسی کا کیا
ہم بھی لفظوں سے کھیلتے ہیں مگر
اس کے دل کی کجی کا کیا
دل پہ ہیں زخم تیرے لہجے کے
اب تری دل لگی کا کیا
ذہن اک بحرِ علم ہے لیکن
روح کی کہنگی کا
شاعری اس پہ بار ہے انور
پھر بھلا شاعری کا
147
عام سی بات تھی ، فسانہ بنی
کتنی آفات کا بہانہ بنی
زندگی کی ہے زندگی کی طرح
گو ہر اک سانس تازیانہ بنی
بات یوں تھی کہ پست ہمت تھا
راہ کی تیرگی بہانہ بنی
چند لوگوں کی خوش خیالی سے
قبر تھی اک جو آستانہ بنی
ایک ڈالی شجر سے پھوٹی تھی
اک پرندے کا آشیانہ بنی
اے محبت ترے اجالے سے
زندگی صبح کا ترانہ بنی
ایک آپس کی بات تھی انور
لے اڑے لوگ اور فسانہ بنی
149
آپ سے بات بھی ہو سکتی ہے
اک ملاقات بھی ہو سکتی ہے
صرف سورج پہ نہ تکیہ کرنا
راہ میں رات بھی ہو سکتی ہے
چھت ضروری ہے مکانوں کے لئے
کبھی برسات بھی ہو سکتی ہے
راہ میں ہے جو سمندر حائل
یہ مری ذات بھی ہو سکتی ہے
آج شدت یہ نفی کی یارو
کل کا اثبات بھی ہو سکتی ہے
کج ادائی کسی لمحے انور
وجہِ آفات بھی ہو سکتی ہے
151
یہ نرم لفظوں کا پہرا ہٹا لے ، رہنے دے
یہ سنگ لہجوں کی بارش بھی مجھ کو سہنے دے
تو اپنے سارے ستارے سنبھال کر رکھ لے
مجھے نہیں ہے کوئی بھی ملال ، رہنے دے
جو بات آج سرِ بزم کہنے والا ہوں
وہ جان جائے تو شاید کبھی نہ کہنے دے
یہ چند تحفے ہیں تےری محبتوں کے حضور
مری عزیز ! مرے آنسوﺅں کو بہنے دے
شمیمِ موسمِ گل اُن سے اختلاف نہ کر
مجھے خزاں کی ہواﺅں کی زد میں رہنے دے
غریب بیٹی کا سر برف ہو گیا انور
جہیز کیسے بنے ، کون اس کو گہنے دے
152
رخِ صبیح سے مایوسیاں ہٹا دیتا
جو بس میں ہوتا تمہیں زندگی سکھا دیتا
کسی خیال کی ٹھنڈک تھی ہمسفر ورنہ
رہ حیات کا سورج قدم جلا دیتا
مرے رفیق اگر میرا ساتھ دے سکتے
میں دشتِ شوق کو اک گلستاں بنا دیتا
میں جان بوجھ کے محفل میں چپ رہا یارو
اگر میں چاہتا پردے سبھی اٹھا دیتا
کسی کی ہمسفری راہ میں رہی حائل
میں ورنہ وہ تھا کہ ہر سدِّرہ گرا دیتا
جو خار زار رتوں میں بھی ساتھ تھا انور
بہار آئی تو ، کیسے مجھے بھلا دیتا
پنجابی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
153
کدی کدی تے اینج لگدا اے
ساڈے ساہ بے کار گئے نیں
حرفاں دی منڈی لگدی اے
حرف نمانے ہار گئے نیں
154
جو ہوناں ، اوہ جاوے ہو
پَئے ناں مَٹھی دل دی لو
اک ٹوبے تے آن کے اترے
تریہ دے مارے پکّھی دو
اکّھاں دے وچ سفنے لَے کے
ساڈے سامنے آن کھلو
دنیا داری کرنی پَئے گی
بھانویں ہس تے بھانویں رو
شہر دے لوک بھلا کیہ جانن
جھونے دی مٹّھی خشبو
سانوں کلیاں کدے نہ چھڈ دی
تیرے پیار دی ٹھنڈی لو
نکّی جہی کہانی ساڈی
روٹی اک ، نیانے دو
کدی تے شیشہ ویکھو ، سوچو
سانوں کیہ کیہ کیہندے او
156
بیٹھے بیٹھے دھون بھنا لئی
بازاں نال اڈاری پا لئی
رُسّے ہوئے نُوں سینے لا کے
اجڑی نگری فیر وسا لئی
کسے دی چھابی ول نہیں تکیا
پُوری نہ سہی ادّھی کھا لئی
اک انّھے نے نئیری راتے
اپنے گھر وچ انّھی پا لئی
تینُوں خوش ویکھن لئی انور
آپے اپنی کھیڈ گوا لئی
157
چھڈ ہور ناں ہُن ازمیشاں پا، ہُن تھک گئے آں
ایس کھیڈ نُوں کِدرے بنّے لا ، ہُن تھک گئے آں
کئی نہیریاں راتاں ، چڑھدے سورج ویکھے نیں
کِتوں چَن دی چاننی لبھ لیا ، ہُن تھک گئے آں
اسیں ننگے پیریں ٹبّے ٹوئے اک کیتے
سانوں اگے ود کے سینے لا ، ہُن تھک گئے آں
جدوں تانگھ دلاں دی مُک جاوے ، دل مُک جاندے
ہن آ جا بیبا ، ہُن آ جا ، ہُن تھک گئے آں
اسیں انور اپنے موہرِیاں دے ، بھکھ مر کے وی
ہُن تک پورے کیتے نیں چا ،ہُن تھک گئے آں
158
میرے سُفنے ہار گئے نیں
دکھ دنیا دے مار گئے نیں
کنّے تاریاں چھالاں مارِیاں
تھوڑے سَن جو پار گئے نیں
اکھِیں ویکھن والے لوکی
ججّاں اگّے ہار گئے نیں
ہمت والے بندے اکثر
ڈبدی بیڑی تار گئے نیں
تیرے وچھڑن دا وی غم سی
جگ دے طعنے مار گئے نیں
کدی کدی تے اینج لگدا اے
ساڈے ساہ بے کار گئے نیں
حرفاں دی منڈی لگدی اے
حرف نمانے ہار گئے نیں
ساڈے اپنے لوکی سانوں
غیراں اُتوں وار گئے نیں
ساڈِیاں کھرِیاں گلاں سُن کے
وَل کھاندے سرکار گئے نیں
کنّے سوہنے لوک سی انور
دکھاں ہتّھوں ہار گئے نیں
