”کمِٹ منٹ“
چوک گھنٹہ گھر سے کسی بھی سمت ایک ڈیڑھ کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا جائے تو تحصیل میونسپل اتھارٹی کی حدود ختم ہو جاتی ہیں۔ یوں لیاقت پور کوشہر کی بجائے ایک بڑا قصبہ ہی کہا جا سکتا ہے۔
چوک گھنٹہ گھر قصبے کا مرکزی چوک ہے جہاں شاید کبھی گھڑیال لگانے کا پروگرام بنا ہولیکن بہت سے دیگر منصوبوں کی طرح یہ گھڑیال بھی بالا ہی بالا مختلف جیبوں میں چلا گیا ہو ۔ میں نے اپنی زندگی میں یہاں کوئی گھڑیال لگا ہوا نہیں دیکھا، اس کے باوجود یہ آج بھی چوک گھنٹہ گھر ہے۔گمان غالب ہے کہ کسی دیمک زدہ پرانی فائل میں یہاں نہ صرف گھڑیال لگایا جا چکا ہو گا بلکہ باقائدگی سے اس کی دیکھ بھال بھی ہوتی ہوگی۔
غلّہ منڈی روڈ کا یہ علاقہ ۔۔ جہاں میری کمپیوٹر شاپ ہے ۔۔ قصبے کے کاروباری مرکز سے ہٹ کر ہونے کی وجہ سے یہاں کچھ زیادہ چہل پہل نہیں ہوتی۔ فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں اپنے دوستوں کو مدعو کرتا ہوں جن سے چائے کے کپ پر دنیا جہان کے موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔ہاں جمعرات اور اتوار کے دن ایسے ہوتے ہیں کہ ہم اطمینان سے گفتگو بھی نہیں کر پاتے کیونکہ ان دو دنوں میں باقی سارے قصبے کی طرح اس طرف بھی گدا گروں کی ٹولیاں اپنی کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہوتی ہیں۔(نہیں معلوم کب اور کیسے بھیک طلب کرنے کے لئے جمعرات کے ساتھ ساتھ اتوار بھی استحقاقی دن قرار پایا ورنہ کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ لوگ صرف جمعرات کے دن ہی اس دھڑلے سے بھیک کے طالب ہوتے تھے)
بھکاریوں کی آمدو رفت سے بازار میں رونق سی ہو جاتی ہے لیکن یکسوئی سے کوئی بھی کام کرنا محال ہو جاتا ہے۔
میں نے شروع شروع میں ان گدا گروں کی مداخلتِ بے جا سے بچنے کے لئے یہ کیا کہ کسی کو کچھ بھی دینے کی بجائے ایک ہاتھ ذرا سا اٹھا کر ”معاف کرو “کہا اور اپنا کام جاری رکھا لیکن ان کی تکرار کی وجہ سے مزید وقت ضائع ہوتا تھا۔ اب اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ جو بھی مانگے بغیر دیکھے اس کے ہاتھ پر ایک روپیہ رکھ کر اپنا کام جاری رکھوں۔
میرے دوستوں کو اعتراض تھا کہ میں اس طرح گداگری کی حوصلہ افزائی کر رہا ہوں ، صرف مستحق لوگوں کو ہی خیرات دینی چاہیے۔استحقاق کا فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا لہٰذا یہ آسان کام جاری رہا۔کچھ عرصے سے بھکاریوں کے جانے پہچانے چہروں میں نئے لوگوں کا اضافہ ہو گیا ۔ یہ قریبی شہر خان پور سے آنے والی جوان عورتوں کی ٹولیاں تھیں جو بازاروں میں بھیک مانگتی نظر آنے لگیں۔ میں نے اپنی عادت کے مطابق ہر بھکاری کے ہاتھ پر ایک روپے کا سکہ رکھ دینے کا معمول جاری رکھا۔ میرے دوستوں کا احتجاج مزید بڑھ گیا۔ اب انہیں یہ بھی اعتراض تھا کہ یہ خواتین بھکاری ہرگز نہیں بلکہ ان کا دھندہ کچھ اور ہے لہٰذا انہیں کچھ بھی دینا سراسر غلط اور بے معنی ہے۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ محنت کے قابل بھکاریوں سے کچھ خدمت لے کر انہیں بھیک کی بجائے معاوضہ دیا جائے، ممکن ہے ان میں سے کچھ بھیک مانگنا چھوڑ کرکام کی طرف مائل ہو جائیں۔
اگلے ہی دن میں نے ایک ہٹے کٹے فقیر سے کہا کہ گودام میں ایک دیوار کے ساتھ پڑے ہوئے سامان کے کارٹن اٹھا کر اگر وہ دوسری دیوار کے ساتھ رکھ دے تو میں اسے پچاس روپے دوں گا۔میری بات کا سخت برا مناتے ہوئے اس نے کہا ”میں نے کام نہیں بھیک مانگی ہے بابا! کام ہی کر کے کھانا ہو تو کام اور بھی بہت ہیں کرنے کو“
چند دن بعد میں نے پھر ہمت کرکے ایک بھکارن کو دکان کی صفائی کے عوض رقم کی پیش کش کر دی۔ اس نے سکون سے میری بات سنی اور دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگی ”یہ تو بہت مشکل کام ہے ۔ کوئی اور کام بتائیں“ میں نے حیرانی سے اس جوان اور صحت مند عورت کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا ”اس سے آسان اور کیا کام ہو گا؟“ اس نے ایک ادائے خاص سے ہلکی سی انگڑائی لیتے ہوئے سر گوشی کی ”کیا میں اتنی بدصورت ہوں؟“ میں نے خاموشی سے دراز کھولی اور ایک روپے کا سکّہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
اس کے بعد کسی بھکاری کو کام کی پیش کش کرنے کی بجائے میں اپنے پرانے معمول کی طرف لوٹ گیا۔ ادھر کسی نے اللہ کے نام کی صدا لگائی ادھر مشینی انداز سے ایک روپیہ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھا اور بات ختم۔ لیکن بات ختم نہیں ہوئی تھی۔اس دن میں خوبرو گدا گر عورتوں کی ایک ٹولی کو ایک روپیہ فی کس کے حساب سے پانچ روپے دے کر فارغ ہوا ہی تھا کہ ساتھ کی کرسی پر بیٹھے میرے ایک بہت محترم اور سنجیدہ دوست نے بڑی رازداری سے کہا ”آپ کو تو خیر ہم جانتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ انہیں اللہ کے لئے نہیں بلکہ ان کے لئے دیتے ہیں۔“ میں نے تائید کی۔ اور کر بھی کیا سکتا تھا ۔ لیکن بین السطور میرا منہہ چڑا رہا تھا۔۔۔۔میں نے خصوصی طور پر ان خاص گداگروں سے معذرت کرنی شروع کر دی۔
آج میں کچھ دیر سے دکان پر پہنچا تھا ۔ تالے کھولے ہی تھے کہ ایک جوان لڑکی (جو بظاہر نابینا نظر آنے والی دوسری اپنے ہی جیسی لڑکی کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی) نے اللہ کے نام پر خیرات کا سوال کر دیا۔ میرا ہاتھ جیب میں جاتے جاتے رک گیا ۔ میں نے کہا ”معاف کرو“لیکن شاید میں پوری طرح ناامید نہیں تھا۔ اس کے دوسری بار سوال کرنے پر میں نے کہا کہ دکان کے تھڑے کی صفائی کر دو میں دس روپے دوں گا۔ کچھ سوچ کر اس نے جھاڑو طلب کی اور صفائی شروع کر دی۔ میں خوش تھا کہ شاید محنت سے کمائے یہ دس روپے اس کی سوچ کا رخ بدل دیں۔ صفائی مکمل ہو چکی تو میں نے دس کا نوٹ اسے دیتے ہوئے کہا ”یہ تمہاری محنت کا معاوضہ ہے خیرات نہیں ، اور یہ مانگنے سے بہت بہتر ہے۔“ اس نے دس کا نوٹ بائیں ہاتھ میں تھاما اوردایاں ہاتھ دراز کرتے ہوئے بولی ”اچھا ! اب کچھ اللہ کے نام پر بھی دے“
٭٭٭٭٭
منیر انور، لیاقت پور فون: 03337471917
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔