Pages

Wednesday, 3 April 2013

لفظ ہماری شناخت

یہ لفظ ہی ہیں جو ہماری مسکراہٹیں ، ہمارے آنسو ، محبتیں ، ناپسندیدگی اور ہمہ قسم جذبوں کو دوسروں تک منتقل کرتے ہیں ۔۔ باوجود اس کے کہ ان میں کئی بار ان غیر محسوس جذبوں کی صراحت تک موجود نہیں ہوتی ۔۔۔ ایک اور دلچسپ بات دیکھیں ۔۔۔ ہم میں سے اکثر ایک دوسرے سے مروج معنوں میں واقف نہیں ہیں ۔۔ ہمیں ایک دوسرے کے عمل کو دیکھنے کا موقع بھی نہیں ملا ۔۔ ہمارے لفظوں نے ہماری ایک شناخت قائم کی ہے ، ایک شخصیتتشکیل دی اور ہمارے لئے یہی لفظ ایک دوسرے کی شناخت ہیں ۔۔ ایک ایسی شناخت جو بسا اوقات بالمشافہ شناخت اور پہچان سے زیادہ قوت رکھتی ہے ۔۔۔۔ سو اپنے لفظوں پر اعتماد کے ساتھ اختیار قائم رکھیئے ۔۔۔ اگر کوئی ہمارے لفظ نہیں پڑھتا تو کیا اور اگر کوئی پڑھ کر ان کے معنی نہیں سمجھ پاتا تو بھی خیر ہے ، کوئی سطحی معنی لے کر آگے گذر جاتا ہے تو یہ بھی ہمارا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ۔۔ بہت تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب کوئی ہمارے لفظوں کے اندر اتر کر ان میں مخفی جہان معنی کی مکمل تفہیم حاصل کرنے کے باوجود انہیں سمجھنے سے انکار کر دیتا ہے لیکن اس سے بھی کیا ۔۔۔ ہمارے لفظوں کو نہ پڑھنے ، پڑھ کر نہ سمجھنے ، یا سمجھ کر نہ سمجھنے والوں کے بارے میں یہ خوش فہمی کبھی قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ وہ ہمیں پڑھتے ہیں ۔۔۔۔ ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ہمارے لفظ نہیں پڑھ سکتے وہ ہمیں کیا پڑھیں گے ، کیا
 سمجھیں گے ۔

مکمل تحریر >>