Pages

Sunday, 27 January 2013

Dukh دکھ

2 comments:

کائناتِ تخیل نے لکھا ہے کہ

سوچ کے در کھولتا آپ کا یہ شعر ،مقیمِ شہر کو بھی اپنے دُکھ بیان کرنے کی دعوت دیتا نظر آرہا ہے کہ دُکھ تو سب کے یکساں ہوتے ہیں کوئی ان کو اوڑھ لیتا ہے تو کسی کے اندر یوں اُتر جاتے ہیں کہ روشنی کی ردا بدن کے زخم چھپا دیتی ہے-

Munir Anwar منیر انور نے لکھا ہے کہ

واہ ۔۔ بہت خوب کہا نورین آپ نے ۔۔۔ کسی نے کہا ہے نا ۔۔
دکھ سب کے مشترک تھے مگر حوصلے جدا
کوئی بکھر گیا تو کوئی مسکرا دیا

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔