ہم سب بحیثیت انسان اچھائیوں اور برائیوں کا مرکب ہیں ۔۔۔ کوئی بھی انسان ( اللہ کے منتخب بندوں کے استثنا کے ساتھ) نہ تو مکمل طور پر اچھا ہوتا ہے ، نہ پورے کا پورا برا ۔۔ یہ ہمارے دیکھنے کا انداز ہے ، زاویہء نگاہ ہے جو کسی کو اچھا یا برا دکھاتا ہے ۔۔ ہم جسے اچھا دیکھنا چاہتے ہیں ہماری خوش خیالی اس کی تمام تر خامیوں کو ہماری نگاہوں سے اوجھل کر دیتی ہے اور اس کی صرف اچھائیاں ہمیں نظر آتی ہیں یوں وہ انسان ہمیں اچھا نظر آتا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اور جسے ہم برا دیکھنا چاہتے ہیں ہماری بد ظنی اس کی تمام خوبیاں پس پشت ڈال کر ہمیں صرف اس کی برائیوں سے روشناس کرواتی ہے ، یوں وہ ہماری نظر میں برا قرار پاتا ہے ۔۔۔ ہونا تو یہی چاہیئے کہ ہم اپنے جیسوں کی برائیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی اچھائیوں کو مہمیز کریں اور یوں برائی کی قوت کے خلاف ان کے معاون بنیں ۔۔ ہم جو دیکھتے ہیں کئی بار وہ ویسا نہیں ہوتا ۔۔ اور قادر مطلق کے پاس ہماری اچھائیوں اور برائیوں کو ناپنے کے پیمانے ہمارے پیمانوں سے مختلف ہیں کہ وہ ہم سے ، ہمارے ماحول اور ہماری نیتوں سے آگاہ ہے سو درست ترین فیصلہ اسی کا ہے اور اسی کو آخری فیصلے کا اختیار ہے ۔۔۔
منیر انور
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔