Pages

Wednesday, 3 April 2013

لفظ ہماری شناخت

یہ لفظ ہی ہیں جو ہماری مسکراہٹیں ، ہمارے آنسو ، محبتیں ، ناپسندیدگی اور ہمہ قسم جذبوں کو دوسروں تک منتقل کرتے ہیں ۔۔ باوجود اس کے کہ ان میں کئی بار ان غیر محسوس جذبوں کی صراحت تک موجود نہیں ہوتی ۔۔۔ ایک اور دلچسپ بات دیکھیں ۔۔۔ ہم میں سے اکثر ایک دوسرے سے مروج معنوں میں واقف نہیں ہیں ۔۔ ہمیں ایک دوسرے کے عمل کو دیکھنے کا موقع بھی نہیں ملا ۔۔ ہمارے لفظوں نے ہماری ایک شناخت قائم کی ہے ، ایک شخصیتتشکیل دی اور ہمارے لئے یہی لفظ ایک دوسرے کی شناخت ہیں ۔۔ ایک ایسی شناخت جو بسا اوقات بالمشافہ شناخت اور پہچان سے زیادہ قوت رکھتی ہے ۔۔۔۔ سو اپنے لفظوں پر اعتماد کے ساتھ اختیار قائم رکھیئے ۔۔۔ اگر کوئی ہمارے لفظ نہیں پڑھتا تو کیا اور اگر کوئی پڑھ کر ان کے معنی نہیں سمجھ پاتا تو بھی خیر ہے ، کوئی سطحی معنی لے کر آگے گذر جاتا ہے تو یہ بھی ہمارا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ۔۔ بہت تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب کوئی ہمارے لفظوں کے اندر اتر کر ان میں مخفی جہان معنی کی مکمل تفہیم حاصل کرنے کے باوجود انہیں سمجھنے سے انکار کر دیتا ہے لیکن اس سے بھی کیا ۔۔۔ ہمارے لفظوں کو نہ پڑھنے ، پڑھ کر نہ سمجھنے ، یا سمجھ کر نہ سمجھنے والوں کے بارے میں یہ خوش فہمی کبھی قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ وہ ہمیں پڑھتے ہیں ۔۔۔۔ ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ہمارے لفظ نہیں پڑھ سکتے وہ ہمیں کیا پڑھیں گے ، کیا
 سمجھیں گے ۔

7 comments:

MAniFani نے لکھا ہے کہ

لفظ بنے پہچان۔

مکمل اتفاق جنابِ منیر انور۔
اور مرحبا بلاگنگ میں۔
یقینا آپ کی شاعری اور خوبصورت خیالات سے مزین الفاظ سے مستفیذ ہونے کا موقع ملے گا۔

کوثر بیگ نے لکھا ہے کہ

بہت عمسہ لکھتے ہیں آپ اور ہمارے پاس آپ کو سمجھنے کا ذریعہ بھی آپ کے الفاظ ہیں اور ہم آپ کے الفاظ ہی کی وجہہ سے آپ کا لوہا مانتے بھی ہیں۔۔

دیکھا جائے تو ہمارے قریب رہنے والے ہمارے اندر کے احساس و خیالات نہیں جانتے جو ہم ان جانے لوگ ہمارے اندر کی دلی باتیں اور تخیل کی دنیا کو بہت اچھے سے پہچانتے ہیں

کوثر بیگ نے لکھا ہے کہ

بہت عمدہ لکھا

Munir Anwar منیر انور نے لکھا ہے کہ
This comment has been removed by the author.
Munir Anwar منیر انور نے لکھا ہے کہ

انشااللہ مانی فانی ۔۔۔

Munir Anwar منیر انور نے لکھا ہے کہ

مجھے خوشی ہے کوثر بیگ صاحبہ کہ آپ میرے لفظوں کے اندر اتر کر ان کی روح کو سمجھیں ۔۔۔
یقیناً ہمارے لفظ ہمارے اندر کی خبر دے دیتے ہیں پڑھنے والوں کو اگر وہ واقعی پڑھیں تو ۔۔

۔۔ محمد یعقوب آسیؔ ۔۔ نے لکھا ہے کہ

دوستانہ انداز میں اگر میں یہ عرض کروں کہ مجھے بھی آپ سے کچھ ایسی ہی شکایت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب کوئی ہمارے لفظوں کے اندر اتر کر ان میں مخفی جہان معنی کی مکمل تفہیم حاصل کرنے کے باوجود انہیں سمجھنے سے انکار کر دیتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آداب

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔